Greatness of character💕💕
Asslam-o-Alaikum
But today I read an example after which there is no example of a higher container.
Hazrat Zain-ul-Abidin (RA) had settled at a place some distance from Madinah after the incident of Karbala.
Yazid wanted to punish one of the martyrs of Hazrat Hussain (RA) for any mistake,then he escaped.When he could not find a place to save his life in the whole empire, he finally came to the family with whose blood he had played Holi in the field of Karbala.
The man came to Hazrat Zain-ul-Abidin (RA) and sought refuge.He (RA) kept it with him for three days.He(RA) continued to serve and pay attention, and when he was leaving, He(RA) also gave him a travel luggage.Seeing this kindness, he stopped walking outside,He thought:"Perhaps Imam Zayn al-'Abidin (may Allah be pleased with him) did not recognize him, If they had known, they would not have done this and would have taken revenge. "
So he turned and said in a low voice:"O Highness! You(RA) do not recognize me."
He (RA) asked:How do you think i don't know you?
He submitted:"No one ever treats his enemies and murderers the way you (RA) treated me. "
Imam Zayn al-'Abidin (may Allah be pleased with him) smiled and said:
Tyrant! I know you from the hour of Karbala when you were wielding the sword on my father's neck, But the difference is that he was your character and that's our character. "
اسلام علیکم
کیسے ہو دوستو
مجھے امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہیں۔
اللہ کے فضل و کرم سے آج کا دن بہت بہتر رہا۔ اگر ہم اللہ پر یقین رکھ کر زندگی گزارے تو ہر دن بہتر ہوتا ہے۔
اعلی ظرف کے بارے میں بہت سنا اور اس کے بارے میں بہت سوچا۔
لیکن کبھی سمجھا نہیں۔
لیکن آج میں نے ایک ایسی مثال پڑھی جس کے بعداعلی ظرف کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ۔
حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ واقعہ کربلا کے بعد مدینہ سے کچھ دور ایک مقام پر آباد ہوگئے تھے ۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والوں میں سے ایک شخص کو یزید نے کسی غلطی کی سزا دینی چاہی تو وہ جان بچا کر بھاگا۔ جب اسے پوری سلطنت میں اپنی جان بچانے کے لئے کوئی جگہ نہیں مل سکی تو آخر کار اس گھرانے کے پاس آگیا جس گھرانےکے خون سےوہ کربلا کے میدان میں ہولی کھیل چکا تھا ۔
وہ شخص حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور پناہ مانگی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے تین دن اپنے پاس رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کی خدمت اور تواضع کرتے رہے ، اور جب وہ رخصت ہونے لگا تو آپ رضی اللہ عنہ نےاس کو رخت سفر بھی دیا۔ یہ حسن سلوک دیکھ کر اس شخص کے باہر جاتے ہوئے قدم رک گئے، اس نے سوچا: "شاید امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے اسے پہچانا نہیں ہے، اگر وہ پہچان لیتے تو شائد یہ سلوک نہ کرتے۔" اور انتقام لیتے۔ "
چنانچہ وہ مڑکر واپس آیا اور دبے لفظوں میں کہنے لگا کہ: "اے عالی مقام ! آپ رضی اللہ عنہ نے شائدمجھے پہچانا نہیں ہے۔"
آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھاکہ: تمہیں یہ گمان کیونکر گزرا کہ میں نے تمہیں پہچانا نہیں ہے؟
اس نے عرض کیاکہ: "جو سلوک آپ رضی اللہ عنہ نے میرے ساتھ کیا ہے کبھی کوئی اپنےدشموں اور قاتلوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتا۔"
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمانے لگے کہ:
ظالم! "میں تجھے میدان کربلا کی اس گھڑی سے جانتا ہوں جب میرے باپ کی گردن پرتم "تلوار چلارہے تھے ، لیکن فرق یہ ہے کہ وہ تمہارا کردار تھا اور یہ ہمارا کردار ہے۔








Subhan Allah 💜
ReplyDeletegreat
ReplyDeleteGood construction
ReplyDeleteSubhan ALLAH
ReplyDelete