ALLAH's wisdom

Asslam-o-Alaikum

How are you friends?
i hope you are all well.


Today has been a much better day by the grace of Allah. If we live by believing in Allah, then every day is better.


Today I am going to tell you a lovely story. I hope you enjoy reading it.😊
So guys this is a doctor's story.  After completing his studies, Dr. Khalid opened his own clinic. He was a good doctor. Every patient who came to him was cured.
Once a woman came to Dr. Khalid's clinic with a baby in her arms. She was nervous. She told Dr. Sahib that this is my son. He is not breathing😞. Please check him.The doctor asked how old the child was. The woman said that the child was four years old. The doctor called her nurse and told the nurse to take the child and give him oxygen.

After a while the doctor went to see the baby and when he saw the baby he was shocked  that the baby's condition was very bad.This child did not have two fingers on the right hand and one finger on the left hand. Both feet had the same condition.With that the child was bahnga .When the doctor saw the condition of the child, he thought that it is a burden on the society and also on his family. Why don't I give him oxygen and let him die .when he saw his mother.  Seeing that she was restless, Out of pity for the baby's mother, the doctor gave the baby oxygen and the child's condition improved and the mother took her child away.

As time went on, Dr. Khalid had come a long way in his life.He was a successful doctor.  Dr. Khalid was living a quiet life with his wife and his son and daughter.Dr. Khalid's two children were studying at a high university. 

Once in a car accident, the condition of the doctor's son became very bad.The best doctor responded by seeing the condition of Dr. Khalid's son.Even Dr. Khalid was a successful doctor but he could not handle such a condition.His friend suggested that I have a friend in the United States who is a very senior doctor. He has handled such conditions many times. you say so, we will take help from him. Dr. Khalid immediately became a supporter. After all, it was a question of the life of his only son.

The next day the doctor arrived for the operation.Dr. Khalid's son was immediately operated on and the operation was successful.Dr. Khalid's son's condition was now out of danger.Now he was anxious to see the doctor and wanted to thank him.When the doctor entered the room, his eyes were bowed down. And he was thanking this doctor with great politeness.

They were quietly listening to Dr. Khalid. After a while he came forward with great cheerfulness and said that you should not give thanks. All this is in the hands of Allah. We should only give thanks to him.And he extended his right hand frankly. When Dr. Khalid saw his outstretched hand, he was shocked that it did not have two fingers.He immediately looked at the other hand, he did not have a single finger, and when he looked at both feet, it was the same.When they finally looked at the doctor, Dr. Khalid was shocked.Because that doctor was a bahnga.



Dr. Khalid's body began to tremble and he began to cry in fear and said that my son's life has been saved today by the hands of the one whom I considered a burden on the society.My Lord, forgive me.

The doctor was standing right in front of Dr. Khalid. He was looking at Dr. Khalid in amazement.

We human beings have no right to have an opinion about anyone that is a burden on society or on anyone else.
The wisdom of this Lord is hidden. We should fulfill our duty by giving thanks to Him.

May Allah give a healthy direction to all our thoughts.
           
           Ameen.










اسلام علیکم

 کیسے ہو دوستو

 مجھے امید ہے کہ آپ سب خیریت سے ہیں۔



 اللہ کے فضل و کرم سے آج کا دن بہت بہتر رہا۔  اگر ہم اللہ پر یقین رکھتے ہوئے زندگی گزارے تو ہر دن بہترہوتا ہے۔



 آج میں آپ کو ایک خوبصورت کہانی سنانے جارہا ہوں۔  مجھے امید ہے کہ آپ اسے پڑھ کر لطف اندوز ہوں گے

 تو دوستوں یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے۔  تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، ڈاکٹر خالد نے اپنا ایک کلینک کھولا۔  وہ ایک اچھے ڈاکٹر تھے۔  اس کے پاس آنے والا ہر مریض جلد ٹھیک ہو جاتا تھا۔
ایک بار ایک عورت ڈاکٹر خالد کے کلینک میں اپنے بازوؤں میں ایک بچے کو لے کر آئی۔  وہ گھبرائی ہوئی تھی۔  اس نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔  یہ سانس نہیں لے رہا ہے۔  برائے کرم اسے چیک کریں۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ بچہ کتنی عمر کا ہے۔  خاتون نے بتایا کہ بچہ چار سال کا ہےا۔  ڈاکٹر نے اپنی نرس کو بلایا اور نرس کو کہا کہ وہ بچے کو لے کر آکسیجن دے۔

 تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر بچے کو دیکھنے گیا اور جب اس نے بچے کو دیکھا تو وہ چونک گیا کہ بچے کی حالت بہت خراب ہے۔ اس بچے کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں اور بائیں ہاتھ کی ایک انگلی نہیں ہے۔  دونوں پاؤں کی حالت بھی ایسی تھی ۔اس کے ساتھ ہی بچہ بیھنگا تھا .  بچے کی حالت دیکھ کر ڈاکٹر نے سوچا کہ یہ  بچہ معاشرے اور  اپنے خاندان پر بھی بوجھ ہے۔  کیوں نہ میں اسےآکسیجن نہ دوں  اور اسے مرنے دوں .جب وہ اس کی  ماں کی طرف دیکھتا ہے.  یہ دیکھ کر کہ وہ بے چین ہے ، بچے  کی والدہ پر ترس کھا کر ، ڈاکٹر  بچے کو آکسیجن دے دیتا ہے  .بچے کی حالت بہتر ہو جا تی ہے ماں اپنے بچے کو لے کر چلی جاتی ہے ۔


 جیسےجیسے وقت گزرتا  گیا ، ڈاکٹر خالد  اپنی زندگی میں کافی آگے بڑھ چکے تھے۔ وہ ایک کامیاب ڈاکٹر تھے۔  ڈاکٹر خالد اپنی بیوی ، بیٹے اور بیٹی کے ساتھ پر سکون زندگی گزار رہے تھے۔ ڈاکٹر خالد کے دونوں بچے ایک اعلی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔


 ایک بار کار حادثے میں ، ڈاکٹر کے بیٹے کی حالت بہت خراب ہوگئی۔ اچھے سے اچھے ڈاکٹر نے ڈاکٹر خالد کے بیٹے کی حالت دیکھ کر جواب دے دیا۔ ڈاکٹر خالد بھی ایک کامیاب ڈاکٹر تھا لیکن وہ ایسی حالت نہیں سنبھال سکتا تھا۔ اس کے دوست نے مشورہ دیا۔  کہ امریکہ میں میرا ایک دوست ہے جو بہت اعلی ڈاکٹر ہے۔  اس نے کئی بار ایسے حالات سنبھالے ہیں۔  آپ کہتے ہیں ،تو ہم اس سے مدد لے لیتے ہیں  ڈاکٹر خالد نےفورا.  حامی بھرلی۔  بہرحال ، یہ اس کے اکلوتے بیٹے کی زندگی کا سوال تھا۔


 اگلے دن وہ ڈاکٹر آپریشن کے لئے پہنچ چکا تھا ۔ ڈاکٹر خالد کے بیٹے کافوری طور پر آپریشن کیا گیا  اور آپریشن کامیاب رہا ۔ ڈاکٹر  خالد کے بیٹے کی حالت اب خطرے سے باہر تھی ۔ڈاکٹر خالد اب اس ڈاکٹر کو دیکھنے کے لئے بے چین تھا اور اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ جب ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوا تو اس کی آنکھیں جھکی ہوءیں تھی۔  اور وہ بڑے شائستگی سے اس ڈاکٹر کا شکریہ ادا کررہا تھا۔


 وہ ڈاکٹر خاموشی سے ڈاکٹر خالد کی باتیں سن رہا تھا۔  تھوڑی دیر بعد وہ بڑی خوش مزاجی سے آگے آیا اور کہا کہ آپ کو شکر ادا نہیں کرنا چاہئے۔  یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔  ہمیں صرف اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ اور اس نے اپنے دائیں ہاتھ کو آگے بڑھایا۔  جب ڈاکٹر خالد نےآگے بڑھے  ہوءے ہاتھ کو دیکھا تو وہ چونک اٹھے کہ اس ہاتھ کی دو انگلیاں نہیں ہیں۔ اس نے فورا  ہی دوسریے ہا تھ طرف دیکھا ، اس کی بھی ایک  انگلی نہیں تھی ، اور جب اس نے دونوں پاؤں کی طرف دیکھا تو ان کا بھی یہی حال تھا ۔  آخر کار انھوں نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا ، ڈاکٹر خالد چونک گئے۔ اس وجہ سے کہ ڈاکٹر بہنگا تھا۔


ڈاکٹر خالد کا جسم کانپنے لگا اور وہ خوف سے رونے لگا اور کہا کہ میرے بیٹے کی جان آج اس کے ہاتھوں بچی ہے جس کو میں معاشرے پر بوجھ سمجھتا تھا۔ میرے خدا مجھے معاف کر  دو
 ڈاکٹر خالد کےبلکل سامنے کھڑا ۔  وہ ڈاکٹر حیرت سے  ڈاکٹر خالد کی طرف دیکھ رہا تھا۔


 ہم انسانوں کو کسی کے بارے میں رائے رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ  معاشرے یا کسی اور پر بوجھ ہے۔

 اس رب کی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔  ہمیں اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کرنا چاہئے۔


 اللہ ہم سب کی سو چو ں کو صحت مند رخ  عطا کرے۔



 آمین۔


Comments

Post a Comment

Please tell me about my mistakes

Popular posts from this blog

Belief

Patience And Certainty

Introduction